جامع مسجد قرطبہ جیسے آجکل کیتھیڈرل مسجد کہا جاتا ہےجو عام دنوں میں سیاحوں کیلئے میوزیم کے طور پر اور اتوار کو عیسائیوں کےلئے بطور چرچ اسعتمال ہوتی ہے
ہزاروں مسلمان سیاح اندلس میں مسلمانوں کے عروج کی اس نشانی کو دیکھنے آتے ہیں اور اکثر ان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے اندر نماز ادا کریں لیکن اس پر مکمل پابندی ہے اور سیکیورٹی پر معمور اہلکار مسلمان سیاحوں کو اس سے باز رکھنے کےلئے ان کے ارد گرد گھومتے رہتے ہیں
انیس سو اٹھانوے میں ایک مراکشی عالم علی کیتانی نے اسپینش مسلمانوں اور عالم عرب کے کچھ لوگوں کے تعاون سےنےقرطبہ مسجد کے قریب کچھ گھر خریدکر ایک مسجد اور اسلامک سنیڑ کی بنیاد رکھی جس کا مقصد قرطبہ کی اسلامی تاریخ کو اجاگر کرنا اور طالب علموں کو اس سے روشناس کروانا تھا اس اسلامک سینڑ کام نام اندلس کے مشہور فلسفی ابن رشد کے نام پر رکھا اس میں پوری دنیا سے پینتس طلبا کو وظائف دے کر تعیلم کا آغاز کیا گیا
تین چار سال کے بعد علی کیتانی کی وفات کے ساتھ ہی یہ سلسلہ بند ہو گیا اور اسپینش مسلمانوں کے گروپس میں اختلاف کی بنا پر یہ بند ہوگئی اور تقریبا بارہ سال کے بعد اب دوبارہ کھلی ہے اب یہ صرف مسجد ہے جو ترکش کی حکومت کی مدد سے چل رہی ہے یوں تو قرطبہ میں دو دیگر مساجد بھی ہیں جہاں باقاعدہ نماز قائم ہے لیکن باقاعدہ ازان کو لوڈاسپیکر پر ادا کرنے کی اجازت صرف اس کو ہی ہے اس علاقہ میں چونکہ مسلمانوں کے ابادی نہی اس لیے باقاعدہ جماعت کے ساتھ نماز کم ہوتی ہے جو سیاح تلاش کر کے پہنچ جائیں وہ ہیاں نماز ادا کرتے ہیں
اب گلی کے باہر تختی کے زریعے نشاندہی کی گئی ہے اسکو اندلیسن مسجد کہا جاتا ہے جامع مسجد کے مینار کی مخالف سمت گلی کے اندر دو سو میٹر جائیں تو یہ مسجد نظر آجائے گی
No comments:
Post a Comment