تاریخ دانوں کے مطابق جو کھنڈرات دریائے کبیر میں دیکھائی دیتے ہیں یہ زمانہ قدیم میں شہر کی غذائی ضرورت پوری کرنے کےلئےآٹا پیسنے کےلئے بنائی گئی چکیوں کے ہیں جو قرطبہ شہر سے گزرنے والے دریا میں مختلف جہگوں پر بنائی گئی تھیں
ان میں کچھ تو بلکل ہی معدوم ہوگئیں اور کچھ عمارات کو دوبارہ قابل استعمال بنا کر اسی غرض کےلئے انیسویں صدی تک استعمال کیا جاتا رہا
ان میں سے کچھ کی عمارتوں میں کچھ تبدیلی کرکے پانی سے بجلی بنانے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا رہا بیسویں صدی کے آغاز میں میں۔
ان چکیوں کو اندلس کی حکومت نے تاریخی ورثہ قرار دے کر ان کو محفوظ کرنے کے اقدامات کئے ہیں
ان میں سے ایک عمارت میں ایک میوزیم بنا دیا گیا ہے
ان چکیوں میں ایک چکیجو مسجد قرطبہ کے نزدیک ہے کو بطور نمونہ محفوظ کیا گیا جس میں ایک لکڑی کا بڑا پہیہ لگایا گیا ہے خلفیہ عبدالرحمان کے زمانہ میں اس سے پانی کھینچ کر مسجد اور شاہی محل کو مہیا کیا جاتا تھا
اسپینیش زبان میں ان چکیوں کو مولینا۔ Molinas de guadelquivirکہا جاتا ہے
مختلف پن چکیوں کی نشاندہی کےلئے اندلس کی صوبائی حکومت نے ان کے نام دے رکھے ہیں
تعداد میں یہ کل گیارہ چکیاں ہیں جن کی نشاندہی ہوئی ہے
ان میں کچھ تو بلکل ہی معدوم ہوگئیں اور کچھ عمارات کو دوبارہ قابل استعمال بنا کر اسی غرض کےلئے انیسویں صدی تک استعمال کیا جاتا رہا
ان میں سے کچھ کی عمارتوں میں کچھ تبدیلی کرکے پانی سے بجلی بنانے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا رہا بیسویں صدی کے آغاز میں میں۔
ان چکیوں کو اندلس کی حکومت نے تاریخی ورثہ قرار دے کر ان کو محفوظ کرنے کے اقدامات کئے ہیں
ان میں سے ایک عمارت میں ایک میوزیم بنا دیا گیا ہے
ان چکیوں میں ایک چکیجو مسجد قرطبہ کے نزدیک ہے کو بطور نمونہ محفوظ کیا گیا جس میں ایک لکڑی کا بڑا پہیہ لگایا گیا ہے خلفیہ عبدالرحمان کے زمانہ میں اس سے پانی کھینچ کر مسجد اور شاہی محل کو مہیا کیا جاتا تھا
اسپینیش زبان میں ان چکیوں کو مولینا۔ Molinas de guadelquivirکہا جاتا ہے
مختلف پن چکیوں کی نشاندہی کےلئے اندلس کی صوبائی حکومت نے ان کے نام دے رکھے ہیں
تعداد میں یہ کل گیارہ چکیاں ہیں جن کی نشاندہی ہوئی ہے


