Sunday, March 13, 2016

دریائے کبیر قرطبہ کی پن چکیاں

تاریخ دانوں کے مطابق جو کھنڈرات دریائے کبیر میں دیکھائی دیتے ہیں یہ زمانہ قدیم میں شہر کی غذائی ضرورت پوری کرنے کےلئےآٹا پیسنے کےلئے بنائی گئی چکیوں کے ہیں جو قرطبہ شہر سے گزرنے والے دریا میں مختلف جہگوں پر بنائی گئی تھیں 
ان میں کچھ تو بلکل ہی معدوم ہوگئیں اور کچھ عمارات کو دوبارہ قابل استعمال بنا کر اسی غرض کےلئے انیسویں صدی تک استعمال کیا جاتا رہا
ان میں سے کچھ کی عمارتوں میں کچھ تبدیلی کرکے پانی سے بجلی بنانے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا رہا بیسویں صدی کے آغاز میں میں۔
ان چکیوں کو اندلس کی حکومت نے تاریخی ورثہ قرار دے کر ان کو محفوظ کرنے کے اقدامات کئے ہیں
ان میں سے ایک عمارت میں ایک میوزیم بنا دیا گیا ہے 
ان چکیوں میں ایک چکیجو مسجد قرطبہ کے نزدیک ہے کو بطور نمونہ محفوظ کیا گیا جس میں ایک لکڑی کا بڑا پہیہ لگایا گیا ہے خلفیہ عبدالرحمان کے زمانہ میں اس سے پانی کھینچ کر مسجد اور شاہی محل کو مہیا کیا جاتا تھا 
اسپینیش زبان میں ان چکیوں کو مولینا۔ Molinas de guadelquivirکہا جاتا ہے
مختلف پن چکیوں کی نشاندہی کےلئے اندلس کی صوبائی حکومت نے ان کے نام دے رکھے ہیں 
تعداد میں یہ کل گیارہ چکیاں ہیں جن کی نشاندہی ہوئی ہے