ابو زکریا یحیحی بن حکم جیانی المعروف الغزال AL-GAZAL
اندلس کی اسلامی سلطنت کے خلیفہ عبدالرحمن دوم جو آٹھ سو بائیسں سن عیسوی سے آٹھ سو باون سن عیسوٰی تک خلیفہ رہا اس نے وقت کی عالمی عیسائی وقت بازطنی سلطنت جس کا درالحکومت قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کے ساتھ سفارتی تعلقات قایم کرنے اور اس وقت کے سکیندنیوین ابھرتی طاقت کے ساتھ سفارتی تعلق قایم کرنے کےلیے جس شخص کو منتخب کیا اس کو تاریخ میں الغزال کے نام سے جانا جاتا ہے
الغزال قرطبہ سے نویے کلومیٹر دور شہر خاین JAEN میں پیدا ہویے
(772 - 866) اور جوانی میں اعلی تعیلم کے لیے قرطبہ آگیے اپنی زہانت اور قابلیت سے قرطبہ کے حکومتی ایونوں میں اپنامقام پیدا کر لیا وہ ایک شاعر اور تاریخ دان کے ساتھ سائینسدان بھی تھے ان کی بے پناہ خوبیوں اور ان کے انداز گفتگو سے متاثر ہو کر خلفیہ نے ان کو اپنا سفیر بناکر قسطنسیہ ارسال کیا جہاں انہوں نے برسوں قیام کیا اور بازطینی سلطنت اور اندلس کے سفارتی تعلقات مضبوط بنایے وہاں کے شہنشاہ کو اپنی قابلیت ک گرویدہ بنایا
آٹھویں صدی کے وسط میں ناورے اور ڈنمارک کے علاقہ سے بحری قزاقوں نے زور پکڑا اور پورے یورپ کے ممالک پر حملے کر کے لوٹ مار کرنا شروع کر دیا ان کو عربی مٰیںؐ مجوسی اور انگلش اسپینیش مین vikingos کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے
انہوں ںے اشبلیہ کے ساحل سمندر پر بھی حملہ کیا اور لوٹ مار کی
خلیفہ عبدالرحمن نے الغزال کو ان کے ساھ سفارتی تعلق بنانے کی زمہداری سونپی ، اندلس کی تاریخ میں الغزل پہلے فرد تھے جہنوں نے سیکینڈنوین علاقہ کا سفر کیا ورنہ اسپین کی اس کی پہلے کی تاریخ میں کسی فرد کے سفر کا کوئی زکر نہیں ملتا، انہوں نے وہاں کے بادشاہ اور ملکہ کو اپنی شاعری اور حسن کلام سے گرویدہ کر لیا،
الغزال ایک بہت اچھے شاعر بھی تھے انہوں نے قسطنطنیہ اور مجوسیوں کی سفارت زکر اپنی شاعری مین میں بھی کیا ہے جو تاریخ کی مختلف کتب میں محفوظ ہو گئی ہے
الغزال نے اپنی زندگی کا زیادہ عرصہ سفارتکاری میں گزارہ جو تقریبا چالیس برس کے لگ بگ بنتا ہے اس کا اندازہ بھی ان کی ایک نظم کے بند سے ہوا جس میں انہوں اپنی زندگی کے تین حصوں کو خوصورتی سے زکر کیا