Sunday, December 18, 2011

جامع مسجد قرطبہ


آج ہم آپ کو مسجد قرطبہ کا تعارف اور سیر کروتے ہیں قرطبہ شہر کی پوری دینا میں وجہ شہرت یہی مسد ہے
اس مسجد کی تعمیر کا خیال امیر عبدالرحمن اول المعروف الداخل (756-788) کو سب سے پہلے اس وقت دامن گیر ہوا جب اس نے ایک طرف اندرونی شورشوں پر قابو پا لیا اور دوسری طرف بیرونی خطرات کے سد باب کا بھی مناسب بندوبست کر دیا۔ اس نے اپنی وفات سے صرف دو سال پہلے یہ کام شروع کرایا۔ امیر چاہتا تھا کہ مسجد کو اموی جامع مسجد دمشق کا ہم پلہ بنا کر اہل اندلس و مغرب کو ایک نیا مرکز عطا کرے ۔ یہی وجہ تھی کی اس کی تعمیر کی نگرانی اس نے خود کی۔
یہ عظیم مسجد وادی الکبیر (ہسپانوی: Guadalquivir)میں دریا پر بنائے گئے قدیم ترین پل(اس پل کو رومی Claudius Marcellus نے تعمیر کروایا تھا) کے قریب اس جگہ واقع ہے جہاں پہلے سینٹ ونسنٹ (St. Vincent of Saragossa) کی یاد میں تعمیر کردہ ایک گرجا قائم تھا اور جس کا ایک حصہ پہلے ہی سے بطور مسجد مسلمانوں کے زیر تصرف تھا (الرازی)۔ السمح بن مالک الخولانی کے عہد میں جب قرطبہ دارالسلطنت بنا تو مسلمانوں نے مسجد کی توسیع کے لئے عیسائیوں سے باقی ماندہ حصہ خریدنے کی خواہش ظاہر کی مگر وہ مسلمانوں کی تمام تر رواداری کے باوجود اسے فروخت کرنے پر تیار نہ ہوئے ۔ لیکن جب عبدالرحمن الداخل کا زمانہ آیا تو اس نے بہت بھاری قیمت ادا کرکے پورا گرجا خریدلیا۔ قبضہ حاصل کرلینے کے بعد 786ء میں امیر نے اسے گرا کر اس کی جگہ ایک دیدہ زیب مسجد کی دیواریں کھڑی کر دیں۔ تعمیر کا کام جس ذوق و شوق سے شروع ہوا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امیر نے دو سال کی قلیل مدت میں اس مسجد کی تعمیر پر 80ہزار دینار خرچ کر دئے ۔
مسجد کی بیرونی چار دیواری اتنی بلند و بالا اور مضبوط تھی کہ وہ شہر کی فصیل نظر آتی تھی ۔ اس فصیل نما چاردیواری کو مزید مضبوط کرنے کے لئے اس کے باہر کی جانب تھوڑے تھوڑے فاصلوں پر پہل پشتیبان (Buttressess) بنائے گئے تھے جن پرکنگرے بنے ہوئے تھے۔

Saturday, December 17, 2011

قرطبہ آمد

ہم نہ تو حضرت آدم کی طرح جنت سے نکل کر زمیں پر آیے اور نہ ہئ عبدالرحمن اول جو بنو امینہ کے آکری خلیفہ کا بیٹا اور سلطں اندلس کا بانی تھا کے مانند کسی کے دلی عہد یا کسی سلطنت کے بانی ہیں، بکلے غم روزگاک کی خاطر قرطبہ سن 2000 میں آیے پر ہیئں کے ہو کر رہ گیے، انشاللہ آیندہ کی تحریروں میں ہم آپ کو سلطنت ادلس اور قرطبہ کے بارے میں بتایا کریں گے بشرط
آپ لوگوں نے میرے بلاگ کی حوصلہ افزئی فرمائی