دنیا بھر میں جامع مسجد قرطبہ کا تعارف تو موجود ہے کیونکہ وہ یورپ میں بنو امیہ کے دمشق کے طرز تعمیر کی زندہ نشانی کے طور پر آج بھی کھڑی ہے
اندلس پر مسلمانوں کےدور حکومت کے وقت ہزاروں مساجد بنی تھیں جومسلمانوں زوال کے بعد چرچوں میں تبدیل کر دی گئیں یا وقت کے ساتھ وہ معدوم ہو گئیں مورخین نے تحقیق کرکے کچھ عمارتوں کا سراغ لگایا ہے ان میں سے کچھ قرطبہ شہر کے اندر ہیں آج ان میں دو عمارتوں کا آپ سے تعارف کرواوں گا
مسجد امیر ہشام Inglesia Santiago
C/Agustin moreno cordoba
یہ عمارت آج کل کھتولک چرچ کے طور پر استعمال کی جاری ہے قرطبہ کو فتح کرنے کے بعد عیسائی فرماںروا فرننڈو نے اس چرچ میں تبدیل کیا موجودہ عمارت کی تعمیر پندرہویں صدی میں کی گئی مسجد کے مینار کے ایک حصہ کو چرچ کے مینار کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا گیا باقی ساری عمارت تبدیل کر دی گئی
آج جب وہاں پنچا تو شام کے سات بج رہے تھے اسی وقت اس کے مینار سے گھنٹی بجنا شروع ہو گئی زہین ماضی کے دریچوں کی جانب چلا گیا مغرب کی ازان دینے کےلیے موزن مینار کی سیڑھی چڑھ رہا ہے اور امام قرطبی امامت کی تیاری کر رہے ہیں آہ مینار تو وہی مگر نغمہ توحید کی جگہ گھنٹی ۔
مسجد مغیرہ Iglesia San Lorenzo
Calle san lorenzo cordoba
بارہ سو چھتیس میں اس مسجد کو کھتولک چرچ میں تبدیل کیا گیا
باقی عمارت ڈھا کر بنائی گئی لیکن مینار کو ترمیم کے ساتھ رہنے دیا گیا یہ مینار اشبلیہ کے مینار جیرالڈ کی طرز پر تعمیر کردہ ہے
یہ آج بھی چرچ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے البتہ اس کے باہر بلدیہ کی جانب سے سیاحوں کےلیے تختی لگائی گئی ہے جس پر یہ تحریر کندہ ہے کہ یہ چرچ فتح قرطبہ کے بعد پرانی مسجد کی جگہ تعمیر ہوا
قرطبہ کے کئی اور خاموش مینار بھی مجھے اپنی جانب بولا رہے ہیں کہ آو ہماری داستاں مسلم دنیا کو سناو




No comments:
Post a Comment