Wednesday, February 3, 2016

قرطبہ کے خاموش میناروں کی روداد قسط نمبر دو


دنیا بھر میں جامع مسجد قرطبہ کا تعارف تو موجود ہے کیونکہ وہ یورپ میں بنو امیہ کے دمشق کے طرز تعمیر کی زندہ نشانی کے طور پر آج بھی کھڑی ہے اندلس پر مسلمانوں کےدور حکومت کے وقت ہزاروں مساجد بنی تھیں جومسلمانوں زوال کے بعد چرچوں میں تبدیل کر دی گئیں یا وقت کے ساتھ وہ معدوم ہو گئیں مورخین نے تحقیق کرکے کچھ عمارتوں کا سراغ لگایا ہے ان میں سے کچھ قرطبہ شہر کے اندر ہیں آج ان میں دو عمارتوں کا آپ سے تعارف کرواوں گا مسجد امیر ہشام Inglesia Santiago C/Agustin moreno cordoba یہ عمارت آج کل کھتولک چرچ کے طور پر استعمال کی جاری ہے قرطبہ کو فتح کرنے کے بعد عیسائی فرماںروا فرننڈو نے اس چرچ میں تبدیل کیا موجودہ عمارت کی تعمیر پندرہویں صدی میں کی گئی مسجد کے مینار کے ایک حصہ کو چرچ کے مینار کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا گیا باقی ساری عمارت تبدیل کر دی گئی آج جب وہاں پنچا تو شام کے سات بج رہے تھے اسی وقت اس کے مینار سے گھنٹی بجنا شروع ہو گئی زہین ماضی کے دریچوں کی جانب چلا گیا مغرب کی ازان دینے کےلیے موزن مینار کی سیڑھی چڑھ رہا ہے اور امام قرطبی امامت کی تیاری کر رہے ہیں آہ مینار تو وہی مگر نغمہ توحید کی جگہ گھنٹی ۔ مسجد مغیرہ Iglesia San Lorenzo Calle san lorenzo cordoba بارہ سو چھتیس میں اس مسجد کو کھتولک چرچ میں تبدیل کیا گیا باقی عمارت ڈھا کر بنائی گئی لیکن مینار کو ترمیم کے ساتھ رہنے دیا گیا یہ مینار اشبلیہ کے مینار جیرالڈ کی طرز پر تعمیر کردہ ہے یہ آج بھی چرچ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے البتہ اس کے باہر بلدیہ کی جانب سے سیاحوں کےلیے تختی لگائی گئی ہے جس پر یہ تحریر کندہ ہے کہ یہ چرچ فتح قرطبہ کے بعد پرانی مسجد کی جگہ تعمیر ہوا قرطبہ کے کئی اور خاموش مینار بھی مجھے اپنی جانب بولا رہے ہیں کہ آو ہماری داستاں مسلم دنیا کو سناو

No comments:

Post a Comment