Sunday, March 13, 2016

دریائے کبیر قرطبہ کی پن چکیاں

تاریخ دانوں کے مطابق جو کھنڈرات دریائے کبیر میں دیکھائی دیتے ہیں یہ زمانہ قدیم میں شہر کی غذائی ضرورت پوری کرنے کےلئےآٹا پیسنے کےلئے بنائی گئی چکیوں کے ہیں جو قرطبہ شہر سے گزرنے والے دریا میں مختلف جہگوں پر بنائی گئی تھیں 
ان میں کچھ تو بلکل ہی معدوم ہوگئیں اور کچھ عمارات کو دوبارہ قابل استعمال بنا کر اسی غرض کےلئے انیسویں صدی تک استعمال کیا جاتا رہا
ان میں سے کچھ کی عمارتوں میں کچھ تبدیلی کرکے پانی سے بجلی بنانے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا رہا بیسویں صدی کے آغاز میں میں۔
ان چکیوں کو اندلس کی حکومت نے تاریخی ورثہ قرار دے کر ان کو محفوظ کرنے کے اقدامات کئے ہیں
ان میں سے ایک عمارت میں ایک میوزیم بنا دیا گیا ہے 
ان چکیوں میں ایک چکیجو مسجد قرطبہ کے نزدیک ہے کو بطور نمونہ محفوظ کیا گیا جس میں ایک لکڑی کا بڑا پہیہ لگایا گیا ہے خلفیہ عبدالرحمان کے زمانہ میں اس سے پانی کھینچ کر مسجد اور شاہی محل کو مہیا کیا جاتا تھا 
اسپینیش زبان میں ان چکیوں کو مولینا۔ Molinas de guadelquivirکہا جاتا ہے
مختلف پن چکیوں کی نشاندہی کےلئے اندلس کی صوبائی حکومت نے ان کے نام دے رکھے ہیں 
تعداد میں یہ کل گیارہ چکیاں ہیں جن کی نشاندہی ہوئی ہے



Saturday, February 20, 2016

ماہر بناتات ماہر علم بیالوجی ابن بطیار۔ اسپین کے روشن ستارے

اسپین کے  نامور مسلمان  سائنسدانوں  کا تعارف اردو زبان میں پیش کرنے کی کوشش شروع کی ہے، آپ اپنی رایے ضردر دییجے ،

                             
                                                                  ابن البیطار

محمد ضیاء الدین عبد اللہ بن احمد بن البیطار المالقی الاندلسی ہے، وہ طبیب اور پودوں یعنی نباتاتی عالم تھے، عرب کے ہاں وہ علمِ نبات (پودوں کا علم) کے سب سے مشہور عالم سمجھے جاتے ہیں، وہ چھٹی صدی ہجری کے اواخر میں پیدا ہوئے، اندلس کے مشہور نباتاتی عالم ابی العباس کے شاگرد تھے جو کہ اشبیلیہ کے علاقے میں پودوں پر تجربات کیا کرتے تھے.
اپنی جوانی کے ابتدائی زمانے میں ہی وہ ملکِ مغرب کی طرف نکل پڑے اور مراکش، جزائر اور تونس کا سارا علاقہ پودوں کی تلاش اور تجربات میں چھان مارا..!! کہا جاتا ہے کہ اس جستجو میں اور علمائے نبات سے سیکھنے کے لیے وہ اغریق اور ملکِ روم کے آخر تک گئے..!! اور کارِ آخر مصر آن پہنچے جہاں ایوبی شاہ الکامل نے ان کا اکرام کیا، ابن ابی اصیبعہ لکھتے ہیں کہ الکامل نے انہیں مصر میں تمام علمائے نبات کا سربراہ مقرر کردیا تھا اور انہیں پر اعتماد کیا کرتے تھے، الکامل کے بعد وہ ان کے بیٹے شاہ الصالح نجم الدین کی خدمت میں دمشق آگئے، دمشق میں ابن البیطار پودوں کی تلاش اور تجربات کے سلسلے میں شام اور اناضول کے علاقوں کے مسلسل چکر لگایا کرتے تھے، اس عرصہ میں “طبقات الاطباء” کے مصنف ابن ابی اصیبعہ ان سے جاملے اور پودوں پر ان کی علمیت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے چنانچہ انہی کی معیت میں دسقوریدس کی دواؤں کی تفاسیر پڑھی، ابن ابی اصیبعہ لکھتے ہیں: “میں ان کی علمی زرخیزی سے بہت کچھ لیتا اور سیکھتا تھا، وہ جس دوا کا بھی ذکر کیا کرتے ساتھ ہی یہ بھی بتاتے کہ دسقوریدس اور جالینوس کی کتب میں وہ کہاں درج ہے اور اس مقالے میں مذکور ادویات میں وہ کون سے عدد پر ہے..!!”
ان کی اہم تصنیفات میں کتاب الجامع لمفردات الادویہ والاغذیہ ہے، یہ کتاب مفردات ابن البیطار کے نام سے مشہور ہے، ابن ابی اصیبعہ اس کتاب کو کتاب الجامع فی الادویہ المفردہ کا نام دیتے ہیں.. اس کتاب میں طبعی عناصر سے نکالے گئے آسان علاجات ہیں، اس کتاب کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا، ان کی کتاب المغنی فی الادویہ المفردہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جس میں جسم کے ایک ایک حصہ کی تکالیف بمع علاجات بتائے گئے ہیں، ان کی دیگر اہم تصانیف میں کتاب الافعال الغریبہ والخواص العجیبہ اور الابانہ والاعلام علی ما فی المنہاج من الخلل والاوہام قابلِ ذکر ہیں..
ابن البیطار کی صفات میں جیسا کہ ابن ابی اصیبعہ بیان کرتے ہیں کہ وہ انتہائی صاحبِ اخلاق شخص تھے اور زرخیز علم رکھتے تھے، انہوں نے حیرت انگیز یاداشت پائی تھی جس سے انہیں پودوں اور دواؤں کی درجہ بندی کرنے میں بہت آسانی ہوئی، انہوں نے طویل تجربات کے بعد مختلف پودوں سے مختلف ادویات بنائیں اور اس ضمن میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں
کیا.. ان کے بارے میں میکس مائرہاف کہتے ہیں: وہ عرب علمائے نبات کے سب سے عظیم سائنسدان تھے.

Thursday, February 11, 2016

علم حدیث کی ترقی اور فروغ میں اندلس کا کیا حصہ ¿?

زیر مطالعہ کتاب در اصل محمد احمد زبیری کا ایم فل کے لیے لکھا جانے والا مقالہ ہے۔ جس میں ملت اسلامیہ کے متحرک جزو کی حیثیت سے علم حدیث کی ترقی اور فروغ میں اندلس کا کیا حصہ ہے؟ جیسے بنیادی سوال کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ عالم اسلام کے جن خطوں نے حدیث اور دیگر اسلامی علوم و فنون کی خدمت کی اور اس میدان میں بے انتہا پیش رفت کی ان میں اسلامی اندلس نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہاں علوم قرآن، علوم حدیث و فقہ، فلسفہ و کلام، تصوف و احسان، تاریخ و سیرت نگاری، طبیعات و کیمیا غرضیکہ ہر میدان میں بیش قیمت کارنامے سرانجام دئیے گئے ہیں اور زندگی کے تقریباً سارے ہی شعبوں میں بھرپور ترقی ہوئی اس طرح ہر علم و فن میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جن کی علمی میدان میں ایک عظیم مقام حاصل ہوا۔ پیش نظر کتاب اس قسم کے تمام حالات و ظروف بیان کرتے ہوئے فتح اندلس سے پانچویں صدی ہجری کے محدثین کے تذکرے اور حدیث کے میدان میں ان کی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے


Saturday, February 6, 2016

قرطبہ کے خاموش میناروں کی روداد (قسط نمبر چار)

آج دوران روزہ درجہ حرارت چوالیس قرطبہ کے ان مساجد اور میناروں کی تلاش میں نکلا جہاں کھبی توحید کے نغمے گونجتے تھے اور استبداد زمانہ کی نظرہوکر یا کھنڈر بن گیے یا چرچوں میں تبدیل کر دئیے گئے

سانتا کلارا ننوں کا اسکول۔ 
convento de santa clara c/ rey heredia

محقیقین اور ماہرین آثار قدیمہ کی مطابق یہ عمارت ۹۸۷ میں مسجد ہوا کرتی تھی جو عیسائی بادشاہ کی فتح قرطبہ کے بعد عیسائی مزہبی اسکول میں بدل دی گئی تھی،
انیس سو اکیاسی ۱۹۸۱ میں ایک عربی عالم جو قرطبہ میں مقیم تھے علی کیتانی نے قرطبہ کی مئیر سے اس پرانی عمارت کو قرطبہ کی مسلمان کیمیونٹی کاستعمال کرنے کی اجازت لے لی لیکن عیسائی مزہبی تنظیموں اور میڈیا نے وہ شور مچایا کے مئیر نے فیصلہ واپس لے لیا

قدیم مسجد کے آثار قرطبہ بس اسٹیشن

قرطبہ کے جدید بس اسٹیشن کی تعمیر کی لئے کی جانے والی کھدائی کے دوران نیچے سے ایک پرانی مسجد کے آثار برآمد ہوئے جسکو محفوظ بنانے کےلئے اسٹیشن کا نقشیہ ایسا بنایا گیا کے آثار قدیمہ کا علاقہ پارکنگ میں آگیایہ مسجد محلہ کی چھوٹی مسجد کی مانند لگتی ہے جس میں محراب اور ہال اور اس کے ملحقہ رہائشی کمرے بنے ہیں



Thursday, February 4, 2016

قرطبہ کے خاموش میناروں کے روداد (قسط تین)


جامع مسجد قرطبہ جیسے آجکل کیتھیڈرل مسجد کہا جاتا ہےجو عام دنوں میں سیاحوں کیلئے میوزیم کے طور پر اور اتوار کو عیسائیوں کےلئے بطور چرچ اسعتمال ہوتی ہے ہزاروں مسلمان سیاح اندلس میں مسلمانوں کے عروج کی اس نشانی کو دیکھنے آتے ہیں اور اکثر ان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے اندر نماز ادا کریں لیکن اس پر مکمل پابندی ہے اور سیکیورٹی پر معمور اہلکار مسلمان سیاحوں کو اس سے باز رکھنے کےلئے ان کے ارد گرد گھومتے رہتے ہیں انیس سو اٹھانوے میں ایک مراکشی عالم علی کیتانی نے اسپینش مسلمانوں اور عالم عرب کے کچھ لوگوں کے تعاون سےنےقرطبہ مسجد کے قریب کچھ گھر خریدکر ایک مسجد اور اسلامک سنیڑ کی بنیاد رکھی جس کا مقصد قرطبہ کی اسلامی تاریخ کو اجاگر کرنا اور طالب علموں کو اس سے روشناس کروانا تھا اس اسلامک سینڑ کام نام اندلس کے مشہور فلسفی ابن رشد کے نام پر رکھا اس میں پوری دنیا سے پینتس طلبا کو وظائف دے کر تعیلم کا آغاز کیا گیا تین چار سال کے بعد علی کیتانی کی وفات کے ساتھ ہی یہ سلسلہ بند ہو گیا اور اسپینش مسلمانوں کے گروپس میں اختلاف کی بنا پر یہ بند ہوگئی اور تقریبا بارہ سال کے بعد اب دوبارہ کھلی ہے اب یہ صرف مسجد ہے جو ترکش کی حکومت کی مدد سے چل رہی ہے یوں تو قرطبہ میں دو دیگر مساجد بھی ہیں جہاں باقاعدہ نماز قائم ہے لیکن باقاعدہ ازان کو لوڈاسپیکر پر ادا کرنے کی اجازت صرف اس کو ہی ہے اس علاقہ میں چونکہ مسلمانوں کے ابادی نہی اس لیے باقاعدہ جماعت کے ساتھ نماز کم ہوتی ہے جو سیاح تلاش کر کے پہنچ جائیں وہ ہیاں نماز ادا کرتے ہیں اب گلی کے باہر تختی کے زریعے نشاندہی کی گئی ہے اسکو اندلیسن مسجد کہا جاتا ہے جامع مسجد کے مینار کی مخالف سمت گلی کے اندر دو سو میٹر جائیں تو یہ مسجد نظر آجائے گی

Wednesday, February 3, 2016

قرطبہ کے خاموش میناروں کی روداد قسط نمبر دو


دنیا بھر میں جامع مسجد قرطبہ کا تعارف تو موجود ہے کیونکہ وہ یورپ میں بنو امیہ کے دمشق کے طرز تعمیر کی زندہ نشانی کے طور پر آج بھی کھڑی ہے اندلس پر مسلمانوں کےدور حکومت کے وقت ہزاروں مساجد بنی تھیں جومسلمانوں زوال کے بعد چرچوں میں تبدیل کر دی گئیں یا وقت کے ساتھ وہ معدوم ہو گئیں مورخین نے تحقیق کرکے کچھ عمارتوں کا سراغ لگایا ہے ان میں سے کچھ قرطبہ شہر کے اندر ہیں آج ان میں دو عمارتوں کا آپ سے تعارف کرواوں گا مسجد امیر ہشام Inglesia Santiago C/Agustin moreno cordoba یہ عمارت آج کل کھتولک چرچ کے طور پر استعمال کی جاری ہے قرطبہ کو فتح کرنے کے بعد عیسائی فرماںروا فرننڈو نے اس چرچ میں تبدیل کیا موجودہ عمارت کی تعمیر پندرہویں صدی میں کی گئی مسجد کے مینار کے ایک حصہ کو چرچ کے مینار کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا گیا باقی ساری عمارت تبدیل کر دی گئی آج جب وہاں پنچا تو شام کے سات بج رہے تھے اسی وقت اس کے مینار سے گھنٹی بجنا شروع ہو گئی زہین ماضی کے دریچوں کی جانب چلا گیا مغرب کی ازان دینے کےلیے موزن مینار کی سیڑھی چڑھ رہا ہے اور امام قرطبی امامت کی تیاری کر رہے ہیں آہ مینار تو وہی مگر نغمہ توحید کی جگہ گھنٹی ۔ مسجد مغیرہ Iglesia San Lorenzo Calle san lorenzo cordoba بارہ سو چھتیس میں اس مسجد کو کھتولک چرچ میں تبدیل کیا گیا باقی عمارت ڈھا کر بنائی گئی لیکن مینار کو ترمیم کے ساتھ رہنے دیا گیا یہ مینار اشبلیہ کے مینار جیرالڈ کی طرز پر تعمیر کردہ ہے یہ آج بھی چرچ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے البتہ اس کے باہر بلدیہ کی جانب سے سیاحوں کےلیے تختی لگائی گئی ہے جس پر یہ تحریر کندہ ہے کہ یہ چرچ فتح قرطبہ کے بعد پرانی مسجد کی جگہ تعمیر ہوا قرطبہ کے کئی اور خاموش مینار بھی مجھے اپنی جانب بولا رہے ہیں کہ آو ہماری داستاں مسلم دنیا کو سناو

Tuesday, February 2, 2016

قرطبہ کی گمشدہ مساجد ( قسط نمبر 1)


اندلس کا نام اردو پڑھنے والے لوگوں کےلیے اجنبی نہیں، علامہ اقبال کی شاعری اور نسم حجازی کے تاریخی ناولوں نے کافی اگاہی پیدا کی ہے، مسلمانوں کے اندلس کے سنہرے دور کی ایک نشانی مسجد قرطبہ ہے جو اپنے طرز تعمیر اور خوبصورتی کے حوالے سے پوری دنیا میں مشہور ہے اور لاکھوں لاگ اس کی سیاحت کےلیے آتے ہیں اسلامی اندلس کی تاریخ کی یہ ایک زندہ نشانی ہے، قرطبہ کو مسلمانوں نے اپنا درلحکومت بنایا تھا تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کے قرطبہ کی اس وقت کی آبادی دس لاکھ نفوس تک پہنچ گئی تھی، قرطبہ میں مسجد قرطبہ سب سے بڑی اور جامع مسجد تھی اس کے علاوہ ہر محلے میں بھی مسجد ہوا کرتی تھی، ان مساجد کی تعداد محقیقین کے مطابق سینکڑوں میں تھی، لیکن گردش آیام نے ان سب کو مٹا دیا ، ان میں سے صرف مسجد قرطبہ اپنی اصلی جگہ اور کسی حد تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہے اس کی تعمیر 780 صدی مین شروع ہوئی اور بعدکے ادوار میں اس کو مزید بڑا کیا جاتا رہا، ایک حالیہ تحقیق کے بعدکچھ مساجد کی باقیات کو دریافت کیا گیا ہے جن کو عیسائی حکمرانوں نے فتح کرنے کے بعد منہدم کرکے چرچ بنا دیا تھا، ان مساجد کا تعارف اور ان کی سیر آنے والے دنوں ؐیں اپنے قارئین کو کروانے کی کوشش کروں گا اسی سلسلے کی پہلی مسجد سان خوان نام کے چوک میں موجود ہے یہ اب ایک چرچ ہے جسکا موجودہ نام San Juan de los Caballeros ہے اس کی عمارت کے ایک کونے میں ایک پرانا مینارمخدوش موجود ہے جو کے مسجد کی نشانی ہے عمارت کے ساتھ ایک تختی نصب کر دی گئی ہے جس پر زکر کیا گیا ہے کے یہ مینار دسویں صدی کی تعمیر کردہ مسجد کا تھا، اس کے علاوہ اس مسجدکے بارے میں مزیدمعلوم نہیں ہوسکا

Monday, February 1, 2016

جب مولانا طارق جمیل کا سیکرٹ نسخہ ہمارے ہاتھ لگا


مولانا طارق جمیل اپنے تبلیغی دورے پر اس ہفتے جب اسپین تشریف لایے تو انہوں ںے بارسلونا میں اپنے پروگرامات سے وقت نکال کر مسجد قرطبہ کو دیکھنے کا ارداہ کیا تو ہمارے ایک دوست جو مولانا کے میزبانوں میں سے تھے نے ہم سے رابطہ کیا اور مولانا کی اس خواہش کی تکمیل کو ہمارے زمہ لگایا، یہ ہماری خوش قسمتی ہے کے مسجد قرطبہ کے طفیل پاکستان اور برطانیہ سے کئی اہم اور معروف علمی و دینی شخصیات سے ملاقات اور خدمت کا موقع ملتا رہتا ہے مولنا اپنی فیملی کے ہمراہ 7 سپتمبر کو بروز ہفتہ بارسلونا سے بزریعہ ٹرین قرطبہ پہنچے ان کے دن کے کھانے کا بندوبست میرے غریب خانے پر تھا مولنا کی امامت میں نماز طہر کی ادائیگی کی، اسکے بعد کھانے کا انتظام کیا کھانے کے بعد مولنا پوجھنے لگے کے گھر میں چایے کےلیے انتظام موجود ہے ؟ میں نے بتایا جی بلکل موجود ہے ابھی تیار کرکے پیش کرتا ہوں کہنے لگے بیٹا چایے تو میں خود بنا کر پیوں گا میرا اپنا نسخہ ہے چایے بنانے کا میں نے کہا مولنا آپ چایے اس شرط پر بنائیں گے کے میں پاس کھڑا رہوں گا اور نسخہ سیکھوں گا فرمانے لگے چلو اپنا نسخہ آپ کو دیے دیتے ہیں پھر انہوں نے اپنے خفیہ نسخے کے مطابق چایے بنائی، اس نسخے کی خاص بات یہ تھی کے اس میں گھڑی پر نظریں جما کر وقت کے مطابق اشیا ڈالی جانی تھیں باقی نسخۃ سیکرٹ ہے جو ہم مولناکی اجازت کے بغیر شیر نہیں کر سکتے اس دورہ کا زکر انہوں نے اپنے کیئ خطبات میں کیا جن میں سے ایک خطبہ درض ذیل لنک میں ہے مولانا طارق جمیل اپنے تبلیغی دورے پر اس ہفتے جب اسپین تشریف لایے تو انہوں ںے بارسلونا میں اپنے پروگرامات سے وقت نکال کر مسجد قرطبہ کو دیکھنے کا ارداہ کیا تو ہمارے ایک دوست جو مولانا کے میزبانوں میں سے تھے نے ہم سے رابطہ کیا اور مولانا کی اس خواہش کی تکمیل کو ہمارے زمہ لگایا، یہ ہماری خوش قسمتی ہے کے مسجد قرطبہ کے طفیل پاکستان اور برطانیہ سے کئی اہم اور معروف علمی و دینی شخصیات سے ملاقات اور خدمت کا موقع ملتا رہتا ہے مولنا اپنی فیملی کے ہمراہ 7 سپتمبر کو بروز ہفتہ بارسلونا سے بزریعہ ٹرین قرطبہ پہنچے ان کے دن کے کھانے کا بندوبست میرے غریب خانے پر تھا مولنا کی امامت میں نماز طہر کی ادائیگی کی، اسکے بعد کھانے کا انتظام کیا کھانے کے بعد مولنا پوجھنے لگے کے گھر میں چایے کےلیے انتظام موجود ہے ؟ میں نے بتایا جی بلکل موجود ہے ابھی تیار کرکے پیش کرتا ہوں کہنے لگے بیٹا چایے تو میں خود بنا کر پیوں گا میرا اپنا نسخہ ہے چایے بنانے کا میں نے کہا مولنا آپ چایے اس شرط پر بنائیں گے کے میں پاس کھڑا رہوں گا اور نسخہ سیکھوں گا فرمانے لگے چلو اپنا نسخہ آپ کو دیے دیتے ہیں پھر انہوں نے اپنے خفیہ نسخے کے مطابق چایے بنائی، اس نسخے کی خاص بات یہ تھی کے اس میں گھڑی پر نظریں جما کر وقت کے مطابق اشیا ڈالی جانی تھیں باقی نسخۃ سیکرٹ ہے جو ہم مولناکی اجازت کے بغیر شیر نہیں کر سکتے مولانا طارق جمیل صاحب کا بیان مسجد قرطبہ کے اوپر ضرور سنیے بیاں اس کلپ میں