Wednesday, August 7, 2013

استبول میں ایک دن


استنبول میں ایک دن ، حجاب اور سکرٹ ترکی کے بارے میں بچپن سے پڑھ رکھا تھا کے یہ خلافت کا مرکز تھا جسے 1924 میں پہلی عالمی جنگ کے بعد کمال اتاترک نے ختم کر کے ترکی کو ایک جدید سیکولر جمہوریہ بنا دیا،درسی کتب میں برصغیر مٰیں تحریک بحالی خلافت کے بارے مٰیں پڑھ رکھا تھا جس میں محؐمد علی جوہر کی والدہ کا ایک مشہور شعر بھی تھا ، ماں محمد علی کی بولی، جاں بیٹآ خلافت پر وار دو،اس دفعہ اسپین واپسی کا سفر کچھ اسطرح بنا کے ایک دن ترکی کے درالحکومت استنبول میں رکنا پڑا، استبول ایسا واحد شہر ہے جو دو براعظموں میں پھیلا ہوا ہے، اس کا پرانا نام قسطنطنیہ تھا کسی دور مٰیں یہ بازطینی عیسائی دنیا کا مرکز تھا، اسی شہر کے بارے میں نبی رحمت صلی اللہ و علیہ واسلم کی ایک حدیث مشہور ہے کہ جو لشکر قسطنطنیہ کو فتح کرے گا وہ سارا لشکر جنتی ہوگا، اسی لیے مشہور صحآبی حضرت ایوب انصاری نے 90 سال کی عمر میں قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والے لشکر میں شرکت کی اور دوران جہاد بیماری سے شہید ہویے، ان کو شہر کی فصیل کے قریب دفن کیا گیا، اسلام آباد سے تقریبا ساڑھے چار گنھٹے کی فلائیٹ کے بعد استبول کے کمال اتاترک ایرپورٹ پر پہنچنے پر وہاں کونٹڑ پر ہی 15 یور کے عوض 30 دن کا ویزہ حآصل کیا، ترکی حکومت نے سیاحٹ کے فروغ کے لیے بیشتر ممالک کے افراد کو یہ سہولت ایرپورٹ پر ہی مہیا کئی ہوئی ہے، ویزہ حاصل کرنے کے بعد ترکش ایرلاین کے ہوٹل ڈسک کی تلاش کی جو کافی دیر کے بعد ملا، ترکش ایر لاین ایسے مسافر جو استنبلو سے آگے جا رہے ہوں مگر 24 گھنٹے ک اقیام استنبول مٰں کو 5اسٹآر مہیا کرتی ہے، اس کے مقابلے مٰیں پاکستان کی قومی ایرلاین اکثر 24 گھنٹے مسافروں خو خؤار ہی کرتی ہے۔ کچھ گھنٹے آرام کے بعد سب سے پہلے صحآبی رسول حضرت ایوب انصاری کے مزار کی زیارت کا پروگرام بنایا، ہوٹل سے نقشہ اور معلمومات مل گئی، استبول جو کے 2 ملین افراد کا شہر ہے میں ٹریفک ک انظآم انتہائی اعلی معیار کا ہے سڑکوں کا جال بھا ہوا ہے، زیرزمین ٹرین کے علاوہ ٹرام اور چھوٹی بسوں کے الگ الگ ٹریک بنے ہویے ہیں، ٹکٹ انتہائی مناسب قیمیت پر، جس علاقے مٰن مزار واقع ہے اس AYUP SULTAN کہا جاتا ہے ترکی میں ایوب کو ایوپ پکارا جاتا ہے جب اس علاقے میں پینچا تو ہر جانب حجاب کئی ہوئی بوڑھی اور نوجوان خواتیں مزار کی جانب جاتی ہوئی نظر آئیں، مزار کے ساتھ متصل مسجد ہے جس مٰں خؤاتین کے لیے الگ سے جگہ بنی ہوئی تھی، ہزاروں کی تعداد میں باحجاب خواتین دیکھ کر دل لو خؤشی ہوئی کے کمال اتاترک اور اس کے بعد کے سیکولر آمروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود ترکی قوم کو اسلام اور اسلامی رویات سے بلکل دور نہٰن کیا جا سکا،البتہ ان کی کوششوں کی وجہ سے سکرٹ والی خواتین بھی جا بجا نظر آئیں مگر جو وقار حجاب مٰں نظر آ رہا تھا وہ ایک الگ ہی بات تھی، جاری ہے

Sunday, March 3, 2013

Tuesday, February 26, 2013