Tuesday, February 2, 2016

قرطبہ کی گمشدہ مساجد ( قسط نمبر 1)


اندلس کا نام اردو پڑھنے والے لوگوں کےلیے اجنبی نہیں، علامہ اقبال کی شاعری اور نسم حجازی کے تاریخی ناولوں نے کافی اگاہی پیدا کی ہے، مسلمانوں کے اندلس کے سنہرے دور کی ایک نشانی مسجد قرطبہ ہے جو اپنے طرز تعمیر اور خوبصورتی کے حوالے سے پوری دنیا میں مشہور ہے اور لاکھوں لاگ اس کی سیاحت کےلیے آتے ہیں اسلامی اندلس کی تاریخ کی یہ ایک زندہ نشانی ہے، قرطبہ کو مسلمانوں نے اپنا درلحکومت بنایا تھا تاریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کے قرطبہ کی اس وقت کی آبادی دس لاکھ نفوس تک پہنچ گئی تھی، قرطبہ میں مسجد قرطبہ سب سے بڑی اور جامع مسجد تھی اس کے علاوہ ہر محلے میں بھی مسجد ہوا کرتی تھی، ان مساجد کی تعداد محقیقین کے مطابق سینکڑوں میں تھی، لیکن گردش آیام نے ان سب کو مٹا دیا ، ان میں سے صرف مسجد قرطبہ اپنی اصلی جگہ اور کسی حد تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہے اس کی تعمیر 780 صدی مین شروع ہوئی اور بعدکے ادوار میں اس کو مزید بڑا کیا جاتا رہا، ایک حالیہ تحقیق کے بعدکچھ مساجد کی باقیات کو دریافت کیا گیا ہے جن کو عیسائی حکمرانوں نے فتح کرنے کے بعد منہدم کرکے چرچ بنا دیا تھا، ان مساجد کا تعارف اور ان کی سیر آنے والے دنوں ؐیں اپنے قارئین کو کروانے کی کوشش کروں گا اسی سلسلے کی پہلی مسجد سان خوان نام کے چوک میں موجود ہے یہ اب ایک چرچ ہے جسکا موجودہ نام San Juan de los Caballeros ہے اس کی عمارت کے ایک کونے میں ایک پرانا مینارمخدوش موجود ہے جو کے مسجد کی نشانی ہے عمارت کے ساتھ ایک تختی نصب کر دی گئی ہے جس پر زکر کیا گیا ہے کے یہ مینار دسویں صدی کی تعمیر کردہ مسجد کا تھا، اس کے علاوہ اس مسجدکے بارے میں مزیدمعلوم نہیں ہوسکا

No comments:

Post a Comment